کیا سوشل سکیورٹی کارڈ بھٹہ مزدور کا حق نہیں؟

سوشل سکیورٹی کسی بھی مزدور کا بنیادی و قانونی حق سمجھا جاتا ہے تاکہ وہ بھی صحت، پینشن اور دوسری سہولیات سے فائدہ اٹھا سکے لیکن ساہیوال ڈویژن میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام

کرنے والے مزدور اس حق سے مکمل طور پر محروم ہیں۔
میاں جہانگیر احمد ایڈووکیٹ کہتے ہیں کہ پراونشل ایمپلائز سوشل سکیورٹی آرڈیننس 1965ء کے تحت
لیبر ڈیپارٹمنٹ اور سوشل سکیورٹی ڈیپارٹمنٹ کی ذمے داری ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہر وہ بھٹہ، فیکٹری، کارخانہ یا ایسی ورکشاپ جہاں پانچ سے زائد مزدور کام کرتے ہیں اس

کو نہ صرف رجسٹرڈ کیا جائے بلکہ وہاں کام کرنے والے مزدوروں کے سوشل سکیورٹی کارڈ جاری کیے جائیں۔
ان کا کہنا ہے کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ اینٹوں کے بھٹے بھی فیکٹریز ایکٹ 1934 کے تحت رجسٹرڈ کرتا ہے لحاظہ بھٹہ مالکان بھی قانونی طور پر پابند ہیں کہ وہ بھٹہ پر کام کرنے والے مزدوروں

کے سوشل سکیورٹی کارڈ بنوائیں۔
بھٹہ مزدوروں کے حقوق پر آواز اٹھانے والی تنظیم انسان دوست ایسوسی ایشن کے ڈائریکٹر انجم رضا مٹو کہتے ہیں کہ لیبر ڈیپارٹمنٹ بھٹہ مزدوروں کے سوشل سکیورٹی کارڈ بنانے میں سنجید نظر نہیں آرہی۔

Read More…

Be the first to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published.


*